Qabul safar Nama



قسط نمبر تین

کابل میں تین روز: جہان امن ہمیشہ اپنے ٹھکانے کی تلاش میں رہتا ہے
مجھے ستمبر 2008 ء میں أفغانستان جانے کا موقع ملا۔ اس وقت میں روٹری کلب لاہور مزنگ کا صدر تھا۔ افغانستان کے تمام روٹری کے کلب پاکستان کے زیرانتظام تھے۔ مجھے پتہ چلا کے کابل میں ایک کلب کا پروگرام ہے۔ پشاور سے تین لوگ جارہے ہیں۔ میں نے ان سے درخواست کی میں بھی جانا چاہ رہا ہوں۔ انہوں نے میری درخواست کو قبول کر لیا اور یوں ہم سب لوگ بذریعہ کار ویزا لے کر کابل گئے اور وہاں پر تین دن قیام کیا۔
ان تین دنون کی ایک روداد آپ کے پیشِ خدمت ہے۔
ڈاکٹر مشتاق مانگٹ

جلال آباد: جلال الدین اکبر کے نام پر بسا ہوا ایک تاریخی شہر
دوپہر ڈھل چکی تھی اور ہم جلال آباد میں تھے،راستہ میں ایک کشادہ بازار آیا،گرمی بہت تھی،سڑک کے کنارے بے شمار ہوٹل ٹھنڈے مشروبات کی دوکانیں تھیں ،اونچی آواز میں گانے لگے ہوئے تھے،طالبان کے دور میں لگائی گئی پابندی کی کسر نکالی جارہی تھی،ایک ریسٹورنٹ میں رک کر کھانا کھایا دل میں ایک انجانا سا خوف تھا،بد امنی کا ڈر،اور اجنبی لوگوں کا ڈر، کئی عمارتوں پر کڑا پہرہ تھا اور کئی جگہوں پر گشت کرتے ہوئے افغان فوجی پائے گئے کہیں کہیں غیرملکی افواج کے سپاہی بھی نظرآرہے تھے،جی بھر کر جلال آباد کو دیکھا،جلال آباد کو روسی تسلط کے وقت سب سے پہلے حزب اسلامی کے مجاہدین نے آزاد کروایا.
جلال آباد ایک مختصر تعارف
جلال آباد کا پرانا نام آدینہ پور تھا،630 عیسوی میں چینی سیاح اور مذہبی راہنما ژوانگ یہاں پہنچے ،اس وقت یہ شہر گندھارا تہذیب کا مرکز تھا ،پھر مسلمانوں نے اس شہر کو فتح کیا خراسانی عرب یہاں پر حکمران رہے بعد ازاں سلطان محمود غزنویؒ نے خراسانی عربوں سے حکومت چھین لیا،گیارویں صدی کے آغازمیں غوری سلطنت نے یہ علاقہ غزنیویوں سے چھین لیا،بعد ازاں چنگیز خان نے افغانستا ن پر حملہ کیا ،ہرات بلخ اور غزنی کو مکمل طور پر تباہ کردیا،پھر سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیر الدین بابرکی وجہ سے اس جگہ کو اہمیت حاصل ہوئی،اس شہر نے ترقی کی منازل جلال الدین اکبر کے دور میں طے کیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق جلال الدین اکبر مغل بادشاہ کے احسانات کی بدولت اس شہر کا نام جلال آباد رکھ دیا گیا. لیکن کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ کسی جلالدین نامی بزرگ کے نام پر اس شہر کا نام رکھا گیا ہے۔

1738 عیسوی تک مغلوں نے یہاں حکومت کی پھر نادر شاہ نے مغلوں کو شکست دی بعد ازاں احمدشاہ ابدالی نے اسے اپنی سلطنت میں شامل کیا،پھر افغان افواج نے ہندوستان پر حملہ کرنے کے لئے جلا ل آباد کو فوجی چھاؤنی یا کیمپ کے طور پر استعمال کیا۔
1838 ءمیں انگریزوں نے اس علاقہ پرحملہ کیا جو ناکام رہا دوبارہ حملہ کے نتیجے میں یہ کامیاب رہے انگریزوں نے جلال آباد پر قبضہ کیا لیکن بعد ازاں چھوڑ کر چلے گئے.تاریخ سے یہ بھی پتہ لگتا ہے انگریزوں اور افغانیوں کی دوسری جنگ میں جب انگریزوں کو فتح حاصل ہوئی انہوں نے جلال آباد کے قریب ایک گاؤں گنڈا مت میں، اس علاقہ کے سردار یعقوب خان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا. اس معاہدے کے مطابق یعقوب خان کی سرداری ختم ہوئی اور اس علاقہ پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوگی. اس معاہدہ میں کافی زیادہ توہیں آمیز شرائط تھیں۔ لیکن ایک بڑی دلچسپ شرط یہ تھی کابل میں انگریزوں کا نمائندہ کوئی انگریز نہیں ہو گا۔ بلکہ کوئی ہندوستانی مسلمان ہوگا. یہ شرط مجھے کافی دلچسپ معلوم ہوتی ہے. بہرحال جب شکشت ہوجائے ایسی چھوٹی چھوٹی شرطوں سے دل کی تسلی تو ہو ہی جاتی ہے۔
روس کے حملہ کے دوران اس شہر نے بہت اہم کردار اداکیا،1992 ءمیں افغان مجاہدین نے اس علاقہ پر قبضہ کیا، اس طرح یہ شہر مختلف ادوار میں مختلف لوگوں کے قبضہ میں رہا۔آج یہ شہرنیٹو اور اقوام متحدہ کی مدد سے دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے اور متاثرین جنگ جو پاکستان منتقل ہو گئے تھے رفتہ رفتہ واپس لوٹ رہے ہیں۔ پشتون تہذیب میں جلال آباد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں مقامی افغان فوج کے علاوہ امریکی فوج کے دستے بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں اور جلال آباد ائیرپورٹ پر امریکی فوجی اڈا افغانستان میں سب سے بڑا امریکی اڈا تصور کیا جاتا ہے۔
جلال آباد ننگر ہار صوبہ کا ایک اہم شہر اور اس کا صوبائی دارلحکومت بھی ہے۔ جلال آباد افغانستان کے پانچ بڑے شہروں میں سے ایک شہر ہے. ایک اندازے کے مطابق اس کی آبادی 50ہزار کے قریب ہے۔ . یاد رہے پاکستان کے ایک اہم سیاسی رہنما خان عبدالغفار خان نے اپنے مرنے کے بعد جلال آباد میں ہی دفن ہونے کا کہا تھا. ان کی قبر جلال آباد میں ہی ہے. مجھے افسوس ہے کہ ان کی قبر پر نہ جا سکا. اس کی وجہ میری لاعلمی تھی.

جلال آباد میں افغانستان کی ایک اہم یونیورسٹی ہے جس کا نام ننگرہار یونیورسٹی ہیں. یہ افغانستان میں دوسری بڑی یونیورسٹی ہے۔ اس میں طالبعلموں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے. انیس سو باسٹھ میں یہاں میڈیکل کالج بنایا گیا تھا۔ میرے اپنے علم کے مطابق اس وقت پاکستان میں بہت ہی کم میڈیکل کالجز تھے۔ اس وقت ننگرہار کا میڈیکل کالج افغانستان کا دوسرا بڑا میڈیکل کالج ہے۔ اس یونیورسٹی کی تعمیر نو میں الخدمت فاوٗڈیشن پاکستان نے جناب سید احسان الللہ وقاص صاحب کی قیادت میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

اگر آپ کو کبھی افغانستان کی ظاہر شاہ کے دور کی تصاویر دیکھنے کا موقع ملے آپ اندازہ کر سکتے ہیں اس وقت افغانستان ایک نہایت ہی ترقی یافتہ ملک تھا اور شہری زندگی کے لوگوں کی بود و باش یورپ کی طرح کی تھی.میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی شادی کے بعد ہنی مون کے لیے کابل گئے تھے. پاکستان سے یورپ جانے کا زمینی راستہ بھی کابل سے جاتا تھا اور لوگ اپنی گاڑیوں پر یہ سفر طے کرتے تھے. خیال آتا ہے کہ وہ کتنا پرامن دور تھا جب سفر کی سہولتیں محدود تھی لیکن راستے پرامن تھے آج سب کچھ کے باوجود میرا افغانستان کا سفر ایک خوف کے سائے میں طے ہو رہا ہے.

جلال آباد دریائے کابل اور دریائے کنہار کے سنگھم پر واقع ہے،یہی دریا پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ میں جلال آباد کی تاریخ کو ذہن میں لاتے ہوئے اس شہر سے گزررہا تھا،میں بہت خوش تھا کہ میری ایک دیرنہ خواہش پوری ہورہی ہے ،اور مجھے ایک اہم شہر سے گزرنے کا موقع مل رہا ہے،جلال آباد سطح سمندر سے1886 فٹ کی بلندی پر واقع ہے،اس لیے گرمی دوسرے علاقوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔ میں جتنی دیر اس شہر میں ٹھہرا، ایک خوف کی کیفیت مجھ پر طاری رہی۔۔۔ لیکن خوش تھا کہ ایک اہم تاریخی شہر دیکھنے کا موقع تو ملا۔
جلال آباد سے کابل
جلال آباد سے کابل تک کا راستہ 151 کلومیٹر کا ہے،سڑک نئی نئی بنی تھی،دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ سڑک چین نے بناکر دی ہے،ٹریفک بہت تھی،راستے میں کہیں کہیں بستیاں تھیں ،کچھ جگہوں پر جنگلات بھی تھے،اکثر جگہوں پر بنجر میدا ن تھے،دریا کے ساتھ تقریبا 64 کلومیٹر لمبی سڑک تھی ،بہت کم آبادی تھی،اکثر جگہوں پر سڑک کے کنار ے اور میدانوں میں جلے ہوئے امریکی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تھیں۔ چلتے چلتے ہم ایک درے پر پہنچ گئے،پہاڑ کے اوپر تک چڑھائی ،تنگ درہ،اور ڈرائیور کی نڈر ڈرائیونگ نے دل دہلا کر رکھ دیا،ایک خطرناک موڑ پر پہنچ کر تو بس یوں سمجھ لیا تھا کہ مشکل سے ہی واپس بخیریت پہنچ سکوں گا ،لیکن الحمداللہ بچ بچاؤ ہوگیا،یہ سڑک 1969 میں تعمیر کی گئی تھی بہت ہی پرانی ٹوٹی پھوٹی سڑک اور وہ بھی اتنے تنگ درے میں !راستہ میں ایک انتہائی خطرناک علاقہ میں ہم داخل ہوئی چہار طرف بلند و بالا پہاڑوں کا سایہ اور وہی سڑک اور وہی خطرناک موڑ ! بس اللہ کا بہت کرم تھا کہ ہم بچ نکلے!
تنگ غار: ایک مشکل ترین راستہ
جلال آباد سے کابل جاتے ہوئے ایک بہت ہی تنگ پہاڑی سلسلہ ہے جس میں ایک سرنگ بھی ہے. اس کو تنگ غار بھی کہتے ہیں۔ بہت اونچائی سےکابل جانے والی سڑک پہاڑی سلسلے کو عبور کرتی ہے. کہتے ہیں کہ یہ ہزاروں سال پرانا راستہ ہے. کوہ ہندوکش کے اس سلسلہ کو عبور کرنا آسان کام نہیں ہے ۔جو بھی افغانستان سے جلال آباد جانا چاہے اس کو یہ سلسلہ ضرور عبور کرنا پڑتا ہے. خاص طور پر اس علاقہ میں ٹرکوں کا گزر. بہت مشکل ہوتا ہے ۔
جب ہم اس درہ پر پہنچے ایک طویل ٹرکوں کی قطار تھی. لوگ انتظار کر رہے تھے اور ہم بھی لائن میں لگے. لیکن ہمارا ٹیکسی ڈرائیور انتظار اور صبر نام جیسے الفاظ سے آشنا نہیں تھا. اس نے حسب معمول گاڑی کو مشکل راستوں سے گزارا اور اس طرح ہم سب سے آگے نکل آئے۔ ہم اس مشکل راستہ سے سے نکل تو آئے لیکن آج تک مجھے اس راستے کا خوف. نہیں بولا۔ اس جگہ پر اتنے زیادہ ایکسیڈنٹ ہوئے ہیں ہوئے ہیں کو دنیا کی سب سے بدترین سڑک ہونے کا. اعزاز حاصل ہے ۔
اس راستے سے گزرتے ہوئے میں یہ مسلسل سوچتا رہا کہ وسطی ایشیا اور افغانستان سے بے شمار لوگ لاکھوں کی تعداد میں اسی درہ سے گذرتے ہوئے ہندوستان پر حملہ آور ہوئے. راستہ پیدل چلنے کے لئے بھی بہت مشکل تھا۔ لیکن جنگی سازوسامان اور جانوروں کے ساتھ اس راستے سے گزرنا کوئی آسان کام نہیں تھا. ملکوں کو فتح کرنے کے لئے ایسا حوصلہ تو کرنا ہی پڑتا ہے.
پل چرخی جیل
کابل سے کافی پہلے ہمارے بائیں طرف سڑک سے کافی فاصلے پر ایک بہت بڑی عمارت نظر آرہی تھی. جیسے ہی ہم اس عمارت کے قریب سے گزرے ہمارے ڈرائیور نے ہمیں یہ بتایا کہ یہ افغانستان کی سب سے بڑی جیل پل چرخی جیل ہیں. جب اس نے یہ نام بتایا تم مجھے بہت کچھ یاد آگیا۔ جب بھی افغان جہاد کی بات ہوتی تھی تو یہی بتایا جاتا جو لوگ گرفتار کئے جاتے ان کو پل چرخی جیل میں رکھا جاتا ہے. اس جیل میں رکھے جانے کا مطلب کہ اب کبھی زندہ واپسی نہ ہوگی سمجھا جاتا تھا اور ساتھ ہی اس جیل میں ہونے والے مظالم کے متعلق بھی بہت عجیب و غریب اور خوفناک کہانیاں موجود تھی.
میں نے جو نہی اسے دیکھا ایک خوف کی لہر میں نے محسوس کی. یہ جیل ۱۹۷۰ ء میں داود خان جو اس وقت افغانستان کی حکمران تھے کے کہنے پر بنائی گئی تھی. روسی افواج کے حملے کے بعد مخالفین کو سزا دینے کے لیے یہ سب سے موضوع جگہ سمجھی جاتی تھی۔ یہاں پر کہتے ہیں ستائیس ہزار سے زائد لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی. ابھی حال ہی میں امریکن فوجوں نے یہاں پر ایک اجتماعی قبر بھی دریافت کی جس میں دو ہزار سے زائد لوگوں کی باقیات موجود تھی۔ جن کو اسی کی دہائی میں قتل کیا گیا.
ایسی جگہ اس قابل تو نہیں ہوتی کہ اس کا ذکر کیا جائے لیکن کیا کیا جائے یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے. پل چرخی اب بھی موجود ہے۔ کبھی اس کو سردار داود نے استعمال کیا، کبھی اس کو ترکئی نے لوگوں کو قتل کرنے کے لئے استعمال کی، ا پھر اس کے بعد روسیوں نے بھی یہاں پر اپنے دشمنوں کے ساتھ بد ترین سلوک کیا اور اب اس پر قبضہ امریکہ کا ہے جو پوری دنیا سے اپنے قیدی لا کر یہاں رکھتاہے ۔
کہتے ہیں گوانتاناموبے سے بے شمار کے قیدی یہاں لاکر رکھے گئے ہیں۔ . اللہ سے دعا ہے اللہ ان بے گناہ قیدیوں پر رحم کرے اور ان ظالموں کو قرارواقعی سزا دے. اس عمارت کو دیکھ کر سفر کرنے میں جو خوشی محسوس ہو رہی تھی کافی مدہم پڑ گئی اور جو خوف پشاور سے شروع ہوا تھا اس میں اضافہ ہوگیا. یہ جیل بہت بڑے میدان میں ہے اس کے چاروں طرف کوئی عمارت نہیں ہے کوئی آبادی نہیں ہے. اس کی تنہائی کی یہ بتاتی ہے کس طرح اس کو محفوظ بنایا گیا ہے… اللہ ہم سب کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین
بلا آخر شام 5 بجے ہم کابل پہنچ گئے (الحمد لله رب العالمين)

کابل ۔۔۔طالبان کے بعد !
شام سے ذر ا پہلے ہم کابل میں داخل ہوئے. پہلی مرتبہ کابل کو قریب سے دیکھنے کا موقع مل رہا تھا. اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے جب کابل میں داخل ہوئے. تو کوئی ایسا منظر نہیں تھا جو بہت ہی مختلف ہوتا. وہی سڑکیں، وہی بازار ، ویسے ہی پختون بودو باش کے لوگ، سب کچھ ایک جیسا لگ رہا تھا. شہر کا مضافاتی علاقہ کافی کھلا تھا. روٹری کلب افغانستان کے لوگوں نے ہمارے لیے ایک ہوٹل میں رہائش کا انتظام کیا تھا. اس کا نام اور پتہ روٗف روحیلہ صاحب کے پاس تھا. انہوں نے ڈرائیور کو یہ تمام معلومات فراہم کردیں. اور وہ ہمیں لے کر اس ہوٹل کی طرف چلا گیا.
مضافاتی علاقے میں غربت کے کافی آثار نظر آرہے تھے. لیکن جیسے ہی ہم ایک صاف ستھرے اور پوش علاقے میں سے گزرنے لگے سب سے پہلا فرق ہمارے ڈرائیور پر پڑا. اب اس کی ڈرائیونگ نہایت محتاط تھی اور وہ اب قاعدہ خوفزدہ لگ رہا تھا۔ وہ اچانک خاموش ہو گیا تھا۔ اس سے میں نے اندازہ کیا اس علاقہ میں کافی سختی ہے کیونکہ اس علاقہ میں بہت ساری غیرملکی دفاتر ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ کابل حکومت کے دفاتر بھی اسی جگہ واقع ہیں۔

جب ہمیں اس علاقے سے گزرے تو جو مختلف چیز نظر آئی وہ امریکن فوجی اور افغان فوجی تھے. ان کی گاڑیاں آ جا رہی تھی. میں نے ایک جگہ دیکھا ایک صاحب جو بظاہر افغانی لگ رہے تھے کسی چیز کا معائنہ کر رہے تھے اور ان کے اردگرد بیسیوں فوجی بندوقیں تانے کھڑے تھے. یہ منظر دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ ہماری معمولی غلطی ان فوجیوں کو اس بات کا یقین دلادے گی کہ وہ ہم پر فائرنگ کردیں. ہم سب ڈر کے مارے خاموش تھے اور سب سے زیادہ خاموش ہمارا ڈرائیور تھا۔وہ جتنا بہادر کابل سے پہلے ساتھ اتنا ہی خاموشی کے ساتھ اب وہ یہ سفر کر رہا تھا.۔

جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کابل ۱۹۷۰ ءکی دہائی میں ایک بہت ترقی یافتہ شہر تھا. اس وقت یہاں پر پرل کانٹی نینٹل ہوٹل بن چکا تھا ۔ جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کابل شہر کی معاشرتی حالت کیا ہوگی. میڈیکل کالجز بن چکے تھے کابل یونیورسٹی نے کام شروع کر دیا تھا۔ . کابل ایشیا کا دل بن چکا تھا. لیکن مجھے یقین ہے اس وقت بھی کابل کے نواح میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ اس سے قطعی مختلف تھا جو کابل شہر میں ہو رہا تھا.
اس دور میں روس بھرپور نظریاتی ہتھیاروں سے لیس ہوکر نا صرف افغانستان بلکہ افغانستان سے ملحقہ موجودہ کے پی کے اور بلوچستان کے علاقوں میں بھی پہنچ چکا تھا. بہت بڑی تعداد کے اندر لوگ روسی نظریات کے حامی پائے جاتے تھے. اور وہ ان سب کی ہر طرح کی مالی اور معاشرتی اور نظریاتی امداد کر رہا تھا۔ کابل کی تمام تر ترقی کا راز روس کی امداد میں پنہاں تھا۔( ہم نے کابل یونیورسٹی اور پی سی کابل کا دورہ بھی کیا جس کی تفصیل بعد میں آئے گی)۔

کابل میں کیا دیکھا ۔۔۔ قسط نمبر چار میں

https://en.wikipedia.org/wiki/Jalalabad_Airport
http://eduworldinternational.com/Innerpage/JALAL_Intl.html
https://www.google.com/url?sa=i&rct=j&q=&esrc=s&source=images&cd=&cad=rja&uact=8&ved=2ahUKEwikxLT8l5jlAhUyyoUKHQyWDdkQjRx6BAgBEAQ&url=https%3A%2F%2Fwww.refugeesintowns.org%2Fjalalabad&psig=AOvVaw3TcIFr9ehmYiYR5YWCjIwC&ust=1571019974445283
https://en.wikipedia.org/wiki/Tang-e_Gharu#/media/File:KABUL_GORGE_-_AFGHANISTAN.jpg
https://www.google.com/url?sa=i&rct=j&q=&esrc=s&source=images&cd=&ved=2ahUKEwiNxav4mJjlAhUH2BoKHdVHAsQQjRx6BAgBEAQ&url=http%3A%2F%2Fdev.pajhwok.com%2Fen%2Fphoto%2F230643&psig=AOvVaw0CALOsGhrlzDOrSmL1h96b&ust=1571020238317205



A little more about admin...


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *